ژند اوستا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - آتش پرستوں کے مذہب کی مقدس کتاب جس میں بانی مذہب زرتشت کی تعلیمات اور عقائد درج ہیں۔ "ان عبارتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے والے کو ژند اوستا سے کہیں زیادہ بائیبل پر عبور حاصل ہے۔"      ( ١٩٢٨ء، خطوط محمد علی، ١٩١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسما 'ژند' کے ساتھ 'اوستا' لگا کر مرکب 'ژند اوستا' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٤٦ء کو "سرور سلطانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آتش پرستوں کے مذہب کی مقدس کتاب جس میں بانی مذہب زرتشت کی تعلیمات اور عقائد درج ہیں۔ "ان عبارتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے والے کو ژند اوستا سے کہیں زیادہ بائیبل پر عبور حاصل ہے۔"      ( ١٩٢٨ء، خطوط محمد علی، ١٩١ )

جنس: مؤنث